OUR TEAM(INFORMATION UPLOAD SOON)

World nature conservation day article by ahmed nabi nadaf sir belgam

٢٨ / جولائی / ٢٠٢٠ء
🌳 *عالمی یوم۔تحفظ۔فطرت* 🌳 ( وشو پرکرتی سنرکشنا دن)

تجسس ، انسانی فطرت کا جزو۔لاینفک ہے اور وہ آرام و سہولت پسند بھی واقع ہوا ہے ۔اسی وجہ سے اس نے زندگی کے اسباب و  وسائل میں فراوانی پیدا کی ۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تسخیر۔کائنات کے نت نےء طریقے ایجاد کر لےء۔ اس آرام طلبی کی تگ و دو میں فطرت سے شعوری طور پر اور لا شعوری طور پر اپنی زندگی کو ہی تنگ کر بیٹھا ۔ سیاروں پر کمندیں ڈالنے کے چکر میں اپنے پیروں تلے کی زمین خطرے میں ڈال بیٹھا ۔ 
قدرت نے نباتات و حیوانات اور ماحول کے مابین جو توازن برقرار رکھا تھا اس میں بگاڑ پیدا کر دیا ۔ فضاء ، پانی اور ماحول میں آلودگیاں پیدا کر ڈالیں اور طرح طرح کی بیماریاں وجود میں لانے کا یہ خود باعث بنا ، حتی' کہ حیاتیاتی تنوع بھی خطرے میں پڑ گئیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کارخانہءقدرت و فطرت کے تحفظ و بقاء کا سنگین مسلہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ 
اللہ نے قرآن۔مجید میں فطرت و قدرت کی نعمتوں کا ذکر ، ان کی افادیت و اہمیت کا ذکر اور ان کے تحفظ کا ذکر فرماتے ہوےء تخریب کاریوں سے روک ، افراط و تفریط کے درمیان راہ۔اعتدال کی طرف رہنمائی فرمائی ۔ رحمت۔عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے فطرت کے تقاضوں کو سمجھاتے ہوےء شجرکاری کرنے کی طرف خوب ترغیب دلائی ہے ۔ شجرکاری کو ایک طرح کا صدقہ قرار دیا اور بے ضرورت درخت کاٹنے کو سختی سے منع فرمایا ۔ 
ان ارشادات پر عمل نہ کر کے انسان خسارہ اٹھا رہاہے ۔ دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں ، غیر معمولی بارشیں ، سیلاب وغیرہ یہ سب موسمیاتی تغیرات ( کلائمٹ چینج ) کا نتیجہ ہیں ۔ جب دنیا پر اس کا بہت بڑا اور برا اثر پڑا تو یونیورسٹیوں میں انوائرمینٹ اسٹڈیز کے الگ سے شعبے بنا دےء گےء ، لیکن عوام کی بڑی تعداد ماحولیات کی بنیادی تعلیم تک سے محروم رہی۔ اگر ہم واقعی فطرت کا تحفظ چاہتے ہیں تو ماحولیات کو ایک الگ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ہمارے بچوں میں پہلے دن سے ہی تحفظ۔فطرت کا شعور اجاگر ہو سکے ۔ اس حساس موضوع و مضمون کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لےء ٹیلی ویژن ایک موءثر ذریعہ ہے ۔ اشتہارات کی مدد سے ، دستاویزی فلمیں نشر کرنا اور سرکاری محکمہ جات کے توسط سے فطرت آگاہی مہمات چلانا ضروری ہے ۔ 
میرے خیال میں فطرت کا تحفظ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ، اگر ہم روز مرہ زندگی میں یہ چھوٹے چھوٹے کام بھی سر انجام دے لیں تو یقینا" ہم قدرت اور قدرتی ماحول کے تحفظ میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اپنے گھر اور گھر سے باہر جہاں ممکن ہو وہاں دو ہی پودے اگائیں ، ان کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرکے انھیں تناور درختوں میں تبدیل کریں ۔
حتی الامکان پبلک ٹرانسپورٹ ( بس وغیرہ ) کا استعمال کریں اس سے آپ بڑی حد تک فضائی آلودگی اور صوتی آلودگی کم کرنے میں اپنا رول ادا کر سکتے ہیں ۔ پرانے اخبارات و کاغذات کو ری سائیکل کے لےء دیں اس سے آپ درختوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح پلاسٹک ، لوہے کے ٹکڑے اور کانچ کے برتن و بوتل وغیرہ بھی ری سائیکل کرنے یعنی انھیں دوبارہ استعمال کے قابل بنانے میں مدد دیں ۔ 
یہ کام بظاہر معمولی کام لگتے ہیں لیکن درحقیقت اس سے تحفظ۔فطرت کا بہت بڑا کام سر انجام پاتا ہے ۔ یہی آج کا دن یعنی *عالمی یوم۔تحفظ۔فطرت* منانے کا مقصد بھی ہے ۔
مجھے قوی امید ہے کہ ہم تمام آج سے اطراف و اکناف میں ہونے والی ماحول دوست سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ، فطرت و قدرت کے تحفظ کے بارے میں دوسروں میں آگاہی پیدا کریں گے ۔ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے ماحول دوست بننے کی ترغیب دیں گے ۔ اگر ایسا کر پاتے ہیں تو ان شاءاللہ ، اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ہم زمین کو جنت میں بدل دیں گے ۔ 

المرسل :- 
*احمدنبی ، نداف ۔ گوکاک ، بیلگاوی* 🌳🌳🌳